کوئی بت خانہ کو جاتا ہے کوئی کعبہ کو
پھر رہے گبر و مسلماں ہیں تری گھات میں کیا
حیدر علی آتش
کوئی تو دوش سے بار سفر اتارے گا
ہزاروں راہزن امیدوار راہ میں ہے
حیدر علی آتش
کفر و اسلام کی کچھ قید نہیں اے آتشؔ
شیخ ہو یا کہ برہمن ہو پر انساں ہووے
حیدر علی آتش
کوچۂ یار میں ہو روشنی اپنے دم کی
کعبہ و دیر کریں گبر و مسلماں آباد
حیدر علی آتش
کوئے جاناں میں بھی اب اس کا پتہ ملتا نہیں
دل مرا گھبرا کے کیا جانے کدھر جاتا رہا
حیدر علی آتش
لگے منہ بھی چڑھانے دیتے دیتے گالیاں صاحب
زباں بگڑی تو بگڑی تھی خبر لیجے دہن بگڑا
حیدر علی آتش
لباس کعبہ کا حاصل کیا شرف اس نے
جو کوئے یار میں کالی کوئی گھٹا آئی
حیدر علی آتش

