میں اس گلشن کا بلبل ہوں بہار آنے نہیں پاتی
کہ صیاد آن کر میرا گلستاں مول لیتے ہیں
حیدر علی آتش
میں وہ غم دوست ہوں جب کوئی تازہ غم ہوا پیدا
نہ نکلا ایک بھی میرے سوا امید واروں میں
حیدر علی آتش
مے کدے میں نشہ کی عینک دکھاتی ہے مجھے
آسماں مست و زمیں مست و در و دیوار مست
حیدر علی آتش
مرد درویش ہوں تکیہ ہے توکل میرا
خرچ ہر روز ہے یاں آمد بالائی کا
حیدر علی آتش
مست ہاتھی ہے تری چشم سیہ مست اے یار
صف مژگاں اسے گھیرے ہوئے ہے بھالوں سے
حیدر علی آتش
مہندی لگانے کا جو خیال آیا آپ کو
سوکھے ہوئے درخت حنا کے ہرے ہوئے
حیدر علی آتش
مری طرح سے مہ و مہر بھی ہیں آوارہ
کسی حبیب کی یہ بھی ہیں جستجو کرتے
حیدر علی آتش

