EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

جو دیکھتے تری زنجیر زلف کا عالم
اسیر ہونے کی آزاد آرزو کرتے

حیدر علی آتش




کعبہ و دیر میں ہے کس کے لیے دل جاتا
یار ملتا ہے تو پہلو ہی میں ہے مل جاتا

حیدر علی آتش




کرتا ہے کیا یہ محتسب سنگ دل غضب
شیشوں کے ساتھ دل نہ کہیں چور چور ہوں

حیدر علی آتش




کون سے دن ہاتھ میں آیا مرے دامان یار
کب زمین و آسماں کا فاصلہ جاتا رہا

حیدر علی آتش




خدا دراز کرے عمر چرخ نیلی کی
یہ بیکسوں کے مزاروں کا شامیانہ ہے

حیدر علی آتش




کسی کی محرم آب رواں کی یاد آئی
حباب کے جو برابر کبھی حباب آیا

حیدر علی آتش




کسی نے مول نہ پوچھا دل شکستہ کا
کوئی خرید کے ٹوٹا پیالہ کیا کرتا

حیدر علی آتش