EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

فصل بہار آئی پیو صوفیو شراب
بس ہو چکی نماز مصلٰی اٹھائیے

حیدر علی آتش




گل آتے ہیں ہستی میں عدم سے ہمہ تن گوش
بلبل کا یہ نالہ نہیں افسانہ ہے اس کا

حیدر علی آتش




حاجت نہیں بناؤ کی اے نازنیں تجھے
زیور ہے سادگی ترے رخسار کے لیے

حیدر علی آتش




ہمارا کعبۂ مقصود تیرا طاق ابرو ہے
تری چشم سیہ کو ہم نے آہوئے حرم پایا

حیدر علی آتش




عید نو روز دل اپنا بھی کبھی خوش کرتے
یار آغوش میں خورشید حمل میں ہوتا

حیدر علی آتش




الٰہی ایک دل کس کس کو دوں میں
ہزاروں بت ہیں یاں ہندوستان ہے

حیدر علی آتش




جو اعلی ظرف ہوتے ہیں ہمیشہ جھک کے ملتے ہیں
صراحی سرنگوں ہو کر بھرا کرتی ہے پیمانہ

حیدر علی آتش