EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

ایسی اونچی بھی تو دیوار نہیں گھر کی ترے
رات اندھیری کوئی آوے گی نہ برسات میں کیا

حیدر علی آتش




عجب تیری ہے اے محبوب صورت
نظر سے گر گئے سب خوب صورت

حیدر علی آتش




امرد پرست ہے تو گلستاں کی سیر کر
ہر نونہال رشک ہے یاں خورد سال کا

حیدر علی آتش




بعد فرہاد کے پھر کوہ کنی میں نے کی
بعد مجنوں کے کیا میں نے بیاباں آباد

حیدر علی آتش




بڑا شور سنتے تھے پہلو میں دل کا
جو چیرا تو اک قطرۂ خوں نہ نکلا

حیدر علی آتش




بحر ہستی سا کوئی دریائے بے پایاں نہیں
آسمان نیلگوں سا سبزۂ ساحل کہاں

حیدر علی آتش




بندش الفاظ جڑنے سے نگوں کے کم نہیں
شاعری بھی کام ہے آتشؔ مرصع ساز کا

حیدر علی آتش