EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

برہمن کھولے ہی گا بت کدہ کا دروازہ
بند رہنے کا نہیں کار خدا ساز اپنا

حیدر علی آتش




بستیاں ہی بستیاں ہیں گنبد افلاک میں
سیکڑوں فرسنگ مجنوں سے بیاباں رہ گیا

حیدر علی آتش




بیاں خواب کی طرح جو کر رہا ہے
یہ قصہ ہے جب کا کہ آتشؔ جواں تھا

حیدر علی آتش




بھرا ہے شیشۂ دل کو نئی محبت سے
خدا کا گھر تھا جہاں واں شراب خانہ ہوا

حیدر علی آتش




دل کی کدورتیں اگر انساں سے دور ہوں
سارے نفاق گبر و مسلماں سے دور ہوں

حیدر علی آتش




دوستوں سے اس قدر صدمے اٹھائے جان پر
دل سے دشمن کی عداوت کا گلہ جاتا رہا

حیدر علی آتش




دنیا و آخرت میں طلب گار ہیں ترے
حاصل تجھے سمجھتے ہیں دونوں جہاں میں ہم

حیدر علی آتش