EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

وہ وقت کا جہاز تھا کرتا لحاظ کیا
میں دوستوں سے ہاتھ ملانے میں رہ گیا

حفیظ میرٹھی




یہ بھی تو سوچئے کبھی تنہائی میں ذرا
دنیا سے ہم نے کیا لیا دنیا کو کیا دیا

حفیظ میرٹھی




یہ ہنر بھی بڑا ضروری ہے
کتنا جھک کر کسے سلام کرو

حفیظ میرٹھی




سمٹا ترا خیال تو گل رنگ اشک تھا
پھیلا تو مثل دشت وفا پھیلتا گیا

حفیظ تائب




یہ دل ہے مرا یا کسی کٹیا کا دیا ہے
بجھتا ہے دم صبح تو جلتا ہے سر شام

حفیظ تائب




آدمی کیا وہ نہ سمجھے جو سخن کی قدر کو
نطق نے حیواں سے مشت خاک کو انساں کیا

حیدر علی آتش




آفت جاں ہوئی اس روئے کتابی کی یاد
راس آیا نہ مجھے حافظ قرآں ہونا

حیدر علی آتش