EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

کیا جانے کیا سبب ہے کہ جی چاہتا ہے آج
روتے ہی جائیں سامنے تم کو بٹھا کے ہم

حفیظ میرٹھی




مے خانے کی سمت نہ دیکھو
جانے کون نظر آ جائے

حفیظ میرٹھی




رات کو رات کہہ دیا میں نے
سنتے ہی بوکھلا گئی دنیا

حفیظ میرٹھی




رسا ہوں یا نہ ہوں نالے یہ نالوں کا مقدر ہے
حفیظؔ آنسو بہا کر جی تو ہلکا کر لیا میں نے

حفیظ میرٹھی




شیخ قاتل کو مسیحا کہہ گئے
محترم کی بات کو جھٹلائیں کیا

حفیظ میرٹھی




شیشہ ٹوٹے غل مچ جائے
دل ٹوٹے آواز نہ آئے

حفیظ میرٹھی




صرف زباں کی نقالی سے بات نہ بن پائے گی حفیظؔ
دل پر کاری چوٹ لگے تو میرؔ کا لہجہ آئے ہے

حفیظ میرٹھی