EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

یاران بے بساط کہ ہر بازئ حیات
کھیلے بغیر ہار گئے مات ہو گئی

حفیظ جالندھری




یہ بھی اک دھوکا تھا نیرنگ طلسم عقل کا
اپنی ہستی پر بھی ہستی کا ہوا دھوکا مجھے

حفیظ جالندھری




ضبط گریہ کبھی کرتا ہوں تو فرماتے ہیں
آج کیا بات ہے برسات نہیں ہوتی ہے

حفیظ جالندھری




زندگی فردوس گم گشتہ کو پا سکتی نہیں
موت ہی آتی ہے یہ منزل دکھانے کے لیے

حفیظ جالندھری




آدمی کا آدمی ہر حال میں ہمدرد ہو
اک توجہ چاہئے انساں کو انساں کی طرف

حفیظ جونپوری




آپ ہی سے نہ جب رہا مطلب
پھر رقیبوں سے مجھ کو کیا مطلب

حفیظ جونپوری




عاشق کی بے کسی کا تو عالم نہ پوچھیے
مجنوں پہ کیا گزر گئی صحرا گواہ ہے

حفیظ جونپوری