EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

اخیر وقت ہے کس منہ سے جاؤں مسجد کو
تمام عمر تو گزری شراب خانے میں

حفیظ جونپوری




بہت دور تو کچھ نہیں گھر مرا
چلے آؤ اک دن ٹہلتے ہوئے

حفیظ جونپوری




بیٹھ جاتا ہوں جہاں چھاؤں گھنی ہوتی ہے
ہائے کیا چیز غریب الوطنی ہوتی ہے

حفیظ جونپوری




بوسۂ رخسار پر تکرار رہنے دیجیے
لیجیے یا دیجیے انکار رہنے دیجیے

حفیظ جونپوری




برا ہی کیا ہے برتنا پرانی رسموں کا
کبھی شراب کا پینا بھی کیا حلال نہ تھا

حفیظ جونپوری




گیا جو ہاتھ سے وہ وقت پھر نہیں آتا
کہاں امید کہ پھر دن پھریں ہمارے اب

حفیظ جونپوری




حال میرا بھی جائے عبرت ہے
اب سفارش رقیب کرتے ہیں

حفیظ جونپوری