اشک غم عقدہ کشائے خلش جاں نکلا
جس کو دشوار میں سمجھا تھا وہ آساں نکلا
ہادی مچھلی شہری
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |
بے درد مجھ سے شرح غم زندگی نہ پوچھ
کافی ہے اس قدر کہ جیے جا رہا ہوں میں
ہادی مچھلی شہری
ٹیگز:
| غام |
| 2 لائنیں شیری |
دل سرشار مرا چشم سیہ مست تری
جذبہ ٹکرا دے نہ پیمانے سے پیمانے کو
ہادی مچھلی شہری
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |
غم دل اب کسی کے بس کا نہیں
کیا دوا کیا دعا کرے کوئی
ہادی مچھلی شہری
غضب ہے یہ احساس وارستگی کا
کہ تجھ سے بھی خود کو بری چاہتا ہوں
ہادی مچھلی شہری
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |
ہر مصیبت تھی مجھے تازہ پیام عافیت
مشکلیں جتنی بڑھیں اتنی ہی آساں ہو گئیں
ہادی مچھلی شہری
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |
لطف جفا اسی میں ہے یاد جفا نہ آئے پھر
تجھ کو ستم کا واسطہ مجھ کو مٹا کے بھول جا
ہادی مچھلی شہری
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |

