EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

جو پردوں میں خود کو چھپائے ہوئے ہیں
قیامت وہی تو اٹھائے ہوئے ہیں

حفیظ بنارسی




کبھی خرد کبھی دیوانگی نے لوٹ لیا
طرح طرح سے ہمیں زندگی نے لوٹ لیا

حفیظ بنارسی




کس منہ سے کریں ان کے تغافل کی شکایت
خود ہم کو محبت کا سبق یاد نہیں ہے

حفیظ بنارسی




کسی کا گھر جلے اپنا ہی گھر لگے ہے مجھے
وہ حال ہے کہ اجالوں سے ڈر لگے ہے مجھے

حفیظ بنارسی




کچھ اس کے سنور جانے کی تدبیر نہیں ہے
دنیا ہے تری زلف گرہ گیر نہیں ہے

حفیظ بنارسی




میں نے آباد کیے کتنے ہی ویرانے حفیظؔ
زندگی میری اک اجڑی ہوئی محفل ہی سہی

حفیظ بنارسی




ملے فرصت تو سن لینا کسی دن
مرا قصہ نہایت مختصر ہے

حفیظ بنارسی