EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

مرا وجود حقیقت مرا عدم دھوکا
فنا کی شکل میں سرچشمۂ بقا ہوں میں

ہادی مچھلی شہری




تم عزیز اور تمہارا غم بھی عزیز
کس سے کس کا گلا کرے کوئی

ہادی مچھلی شہری




تو ہے بہار تو دامن مرا ہو کیوں خالی
اسے بھی بھر دے گلوں سے تجھے خدا کی قسم

ہادی مچھلی شہری




اس نے اس انداز سے دیکھا مجھے
زندگی بھر کا گلہ جاتا رہا

ہادی مچھلی شہری




اٹھنے کو تو اٹھا ہوں محفل سے تری لیکن
اب دل کو یہ دھڑکا ہے جاؤں تو کدھر جاؤں

ہادی مچھلی شہری




وہ پوچھتے ہیں دل مبتلا کا حال اور ہم
جواب میں فقط آنسو بہائے جاتے ہیں

ہادی مچھلی شہری




آسان نہیں مرحلۂ ترک وفا بھی
مدت ہوئی ہم اس کو بھلانے میں لگے ہیں

حفیظ بنارسی