یوں تو اب بھی ہے وہی رنج وہی محرومی
وہ جو اک تیری طرف سے تھا اشارا نہ رہا
حبیب اشعر دہلوی
لو ہو صبا ہو یا پروائی سب کے ساتھ چلو
سب ہیں صید رہ تنہائی سب کے ساتھ چلو
حبیب فخری
آگے نکل گئے تھے ذرا اپنے آپ سے
ہم کو حبیبؔ خود کی طرف لوٹنا پڑا
حبیب حیدرآبادی
حبیبؔ اس زندگی کے پیچ و خم سے ہم بھی نالاں ہیں
ہمیں جھوٹے نگینوں کی چمک بھاتی نہیں شاید
حبیب حیدرآبادی
انسان کی بلندی و پستی کو دیکھ کر
انساں کہاں کھڑا ہے ہمیں سوچنا پڑا
حبیب حیدرآبادی
اصل ثابت ہے وہی شرع کا اک پردہ ہے
دانے تسبیح کے سب پھرتے ہیں زناروں پر
حبیب موسوی
بہت دنوں میں وہ آئے ہیں وصل کی شب ہے
موذن آج نہ یا رب اٹھے اذاں کے لئے
حبیب موسوی

