EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

یوں تو اب بھی ہے وہی رنج وہی محرومی
وہ جو اک تیری طرف سے تھا اشارا نہ رہا

حبیب اشعر دہلوی




لو ہو صبا ہو یا پروائی سب کے ساتھ چلو
سب ہیں صید رہ تنہائی سب کے ساتھ چلو

حبیب فخری




آگے نکل گئے تھے ذرا اپنے آپ سے
ہم کو حبیبؔ خود کی طرف لوٹنا پڑا

حبیب حیدرآبادی




حبیبؔ اس زندگی کے پیچ و خم سے ہم بھی نالاں ہیں
ہمیں جھوٹے نگینوں کی چمک بھاتی نہیں شاید

حبیب حیدرآبادی




انسان کی بلندی و پستی کو دیکھ کر
انساں کہاں کھڑا ہے ہمیں سوچنا پڑا

حبیب حیدرآبادی




اصل ثابت ہے وہی شرع کا اک پردہ ہے
دانے تسبیح کے سب پھرتے ہیں زناروں پر

حبیب موسوی




بہت دنوں میں وہ آئے ہیں وصل کی شب ہے
موذن آج نہ یا رب اٹھے اذاں کے لئے

حبیب موسوی