EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

کتنے صنم خود ہم نے تراشے
ذوق پرستش اللہ اکبر

حبیب احمد صدیقی




موت کے بعد بھی مرنے پہ نہ راضی ہونا
یہی احساس تو سرمایۂ دیں ہوتا ہے

حبیب احمد صدیقی




میرے لئے جینے کا سہارا ہے ابھی تک
وہ عہد تمنا کہ تمہیں یاد نہ ہوگا

حبیب احمد صدیقی




مجھ کو احساس رنگ و بو نہ ہوا
یوں بھی اکثر بہار آئی ہے

حبیب احمد صدیقی




نہ ہو کچھ اور تو وہ دل عطا ہو
بہل جائے جو سعیٔ رائیگاں سے

حبیب احمد صدیقی




نگاہ لطف کو الفت شعار سمجھے تھے
ذرا سے خندۂ گل کو بہار سمجھتے تھے

حبیب احمد صدیقی




رعنائی بہار پہ تھے سب فریفتہ
افسوس کوئی محرم راز خزاں نہ تھا

حبیب احمد صدیقی