EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

تگ و تاز پیہم ہے میراث آدم
مرے منتظر کچھ جہاں اور بھی ہیں

حبیب احمد صدیقی




تسلیم ہے سعادت ہوش و خرد مگر
جینے کے واسطے دل ناداں بھی چاہئے

حبیب احمد صدیقی




وہ بھلا کیسے بتائے کہ غم ہجر ہے کیا
جس کو آغوش محبت کبھی حاصل نہ ہوا

حبیب احمد صدیقی




وہ کرم ہو کہ ستم ایک تعلق ہے ضرور
کوئی تو درد محبت کا امیں ہوتا ہے

حبیب احمد صدیقی




یا دیر ہے یا کعبہ ہے یا کوئے بتاں ہے
اے عشق تری فطرت آزاد کہاں ہے

حبیب احمد صدیقی




یہ مہر و ماہ و کواکب کی بزم لا محدود
صلائے دعوت پرواز ہے بشر کے لئے

حبیب احمد صدیقی




صبر اے دل کہ یہ حالت نہیں دیکھی جاتی
ٹھہر اے درد کہ اب ضبط کا یارا نہ رہا

حبیب اشعر دہلوی