EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

برہمن شیخ کو کر دے نگاہ ناز اس بت کی
گلوئے زہد میں تار نظر زنار بن جائے

حبیب موسوی




بتان سرو قامت کی محبت میں نہ پھل پایا
ریاضت جن پہ کی برسوں وہ نخل بے ثمر نکلے

حبیب موسوی




چاندنی چھپتی ہے تکیوں کے تلے آنکھوں میں خواب
سونے میں ان کا دوپٹہ جو سرک جاتا ہے

حبیب موسوی




دشت و صحرا میں حسیں پھرتے ہیں گھبرائے ہوئے
آج کل خانۂ امید ہے ویراں کس کا

حبیب موسوی




دل لیا ہے تو خدا کے لئے کہہ دو صاحب
مسکراتے ہو تمہیں پر مرا شک جاتا ہے

حبیب موسوی




دل میں بھری ہے خاک میں ملنے کی آرزو
خاکستری ہوا ہے ہماری قبا کا رنگ

حبیب موسوی




فصل گل آئی اٹھا ابر چلی سرد ہوا
سوئے مے خانہ اکڑتے ہوئے مے خوار چلے

حبیب موسوی