EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

گلوں کا دور ہے بلبل مزے بہار میں لوٹ
خزاں مچائے گی آتے ہی اس دیار میں لوٹ

حبیب موسوی




غربت بس اب طریق محبت کو قطع کر
مدت ہوئی ہے اہل وطن سے جدا ہوئے

حبیب موسوی




حضرت واعظ نہ ایسا وقت ہاتھ آئے گا پھر
سب ہیں بے خود تم بھی پی لو کچھ اگر شیشہ میں ہے

حبیب موسوی




جا سکے نہ مسجد تک جمع تھے بہت زاہد
میکدے میں آ بیٹھے جب نہ راستا پایا

حبیب موسوی




جب کہ وحدت ہے باعث کثرت
ایک ہے سب کا راستا واعظ

حبیب موسوی




جو لے لیتے ہو یوں ہر ایک کا دل باتوں باتوں میں
بتاؤ سچ یہ چالاکی تمہیں کس نے سکھائی تھی

حبیب موسوی




کرو باتیں ہٹاؤ آئنہ بس بن چکے گیسو
انہیں جھگڑوں ہی میں اس دن بھی کتنی رات آئی تھی

حبیب موسوی