EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

کسی ہیں بھبتیاں مسجد میں ریش واعظ پر
کہیں نہ میری طبیعت خدا گواہ رکی

حبیب موسوی




خدا کرے کہیں مے خانہ کی طرف نہ مڑے
وہ محتسب کی سواری فریب راہ رکی

حبیب موسوی




کسی صورت سے ہوئی کم نہ ہماری تشویش
جب بڑھی دل سے تو آفاق میں پھیلی تشویش

حبیب موسوی




کیا ہوا ویراں کیا گر محتسب نے مے کدہ
جمع پھر کل شام تک ہر ایک شے ہو جائے گی

حبیب موسوی




لب جاں بخش تک جا کر رہے محروم بوسہ سے
ہم اس پانی کے پیاسے تھے جو تڑپاتا ہے ساحل پر

حبیب موسوی




لکھ کر مقطعات میں دیں ان کو عرضیاں
جو دائرے تھے کاسۂ دست گدا ہوئے

حبیب موسوی




مے کدہ ہے شیخ صاحب یہ کوئی مسجد نہیں
آپ شاید آئے ہیں رندوں کے بہکائے ہوئے

حبیب موسوی