EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

ہمیں بھی اب در و دیوار گھر کے یاد آئے
جو گھر میں تھے تو ہمیں آرزوئے صحرا تھی

گلنار آفرین




کہیے آئینۂ صد فصل بہاراں تجھ کو
کتنے پھولوں کی مہک ہے ترے پیراہن میں

گلنار آفرین




کن شہیدوں کے لہو کے یہ فروزاں ہیں چراغ
روشنی سی جو ہے زنداں کے ہر اک روزن میں

گلنار آفرین




کیا بات ہے کیوں شہر میں اب جی نہیں لگتا
حالانکہ یہاں اپنے پرائے بھی وہی ہیں

گلنار آفرین




سفر کا رنگ حسیں قربتوں کا حامل ہو
بہار بن کے کوئی اب تو ہم سفر آئے

گلنار آفرین




وہ چراغ زیست بن کر راہ میں جلتا رہا
ہاتھ میں وہ ہاتھ لے کر عمر بھر چلتا رہا

گلنار آفرین




یہ طلسم موسم گل نہیں کہ یہ معجزہ ہے بہار کا
وہ کلی جو شاخ سے گر گئی وہ صبا کی گود میں پل گئی

گلنار آفرین