EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

یار گر پوچھے تو کیجے کچھ عرض
بات پر بات کہی جاتی ہے

غلام یحییٰ حضورعظیم آبادی




بغیر سمت کے چلنا بھی کام آ ہی گیا
فصیل شہر کے باہر بھی ایک دنیا تھی

گلنار آفرین




دل کا ہر زخم تری یاد کا اک پھول بنے
میرے پیراہن جاں سے تری خوشبو آئے

گلنار آفرین




ایک آنسو یاد کا ٹپکا تو دریا بن گیا
زندگی بھر مجھ میں ایک طوفان سا پلتا رہا

گلنار آفرین




ایک پرچھائیں تصور کی مرے ساتھ رہے
میں تجھے بھولوں مگر یاد مجھے تو آئے

گلنار آفرین




گلنارؔ مصلحت کی زباں میں نہ بات کر
وہ زہر پی کے دیکھ جو سچائیوں میں ہے

گلنار آفرین




ہم سر راہ وفا اس کو صدا کیا دیتے
جانے والے نے پلٹ کر ہمیں دیکھا بھی نہ تھا

گلنار آفرین