ہے افسوس اے عمر جانے کا تیرے
کہ تو میرے پاس ایک مدت رہی ہے
غلام یحییٰ حضورعظیم آبادی
ہیں شیخ و برہمن تسبیح اور زنار کے بندے
تکلف بر طرف عاشق ہیں اپنے یار کے بندے
غلام یحییٰ حضورعظیم آبادی
ہر کوئی اپنی فہم ناقص میں
پختہ سودائے خام رکھتا ہے
غلام یحییٰ حضورعظیم آبادی
عشق میں درد سے ہے حرمت دل
چشم کو آبرو ہے آنسو سے
غلام یحییٰ حضورعظیم آبادی
عشق میں خوب نیں بہت رونا
اس سے افشائے راز ہوتا ہے
غلام یحییٰ حضورعظیم آبادی
عشق نے سامنے ہوتے ہی جلایا دل کو
جیسے بستی کو لگاوے ہے عدو جنگ میں آگ
غلام یحییٰ حضورعظیم آبادی
جو جی چاہے ہے دیکھوں ماہ نو کہتا ہے دل میرا
ادھر کیا دیکھتا ہے ابروئے خم دار کے بندے
غلام یحییٰ حضورعظیم آبادی

