ہمارا نام پکارے ہمارے گھر آئے
یہ دل تلاش میں جس کی ہے وہ نظر آئے
نہ جانے شہر نگاراں پہ کیا گزرتی ہے
فضائے دشت الم کوئی تو خبر آئے
نشان بھول گئی ہوں میں راہ منزل کا
خدا کرے کہ مجھے یاد رہ گزر آئے
میں آندھیوں میں بھی پھولوں کے رنگ پڑھ لوں گی
ترے بدن کی مہک لوٹ کر اگر آئے
غبار غم کا دیار وفا میں اڑتا ہے
مگر یہ اشک بہت کام چشم تر آئے
سفر کا رنگ حسیں قربتوں کا حامل ہو
بہار بن کے کوئی اب تو ہم سفر آئے
نئی سحر کا میں گلنارؔ استعارہ ہوں
فضائے تیرہ شبی ختم ہو سحر آئے

غزل
ہمارا نام پکارے ہمارے گھر آئے
گلنار آفرین