EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

کب اس جی کی حالت کوئی جانتا ہے
جو جی جانتا ہے سو جی جانتا ہے

غلام یحییٰ حضورعظیم آبادی




کبھی ہاتھ بھی آئے گا یار سچ کہہ
یا یوں ہی تو باتیں بناتا رہے گا

غلام یحییٰ حضورعظیم آبادی




کہوں کہ شیخ زمانہ ہوں لاف تو یہ ہے
میں اپنے بت کا برہمن ہوں صاف تو یہ ہے

غلام یحییٰ حضورعظیم آبادی




کروں قطع الفت بتوں سے ولیکن
یہ کافر مرا دل نہیں مانتا ہے

غلام یحییٰ حضورعظیم آبادی




ناچار ہے دل زلف گرہ گیر کے آگے
دیوانے کا کیا چلتا ہے زنجیر کے آگے

غلام یحییٰ حضورعظیم آبادی




شب ہجر میں ایک دن دیکھنا
اگر زندگی ہے تو مر جائیں گے

غلام یحییٰ حضورعظیم آبادی




تجھ بن اک دل ہو پاس رہتا ہے
وہ بھی اکثر اداس رہتا ہے

غلام یحییٰ حضورعظیم آبادی