تیرے رخساروں سے دنیا روشن تھی
کیسے ہو گئی ظلمت طاری حیرت ہے
غلام محمد وامق
آتا تھا جس کو دیکھ کے تصویر کا خیال
اب تو وہ کیل بھی مری دیوار میں نہیں
غلام مرتضی راہی
اب اور دیر نہ کر حشر برپا کرنے میں
مری نظر ترے دیدار کو ترستی ہے
غلام مرتضی راہی
اب جو آزاد ہوئے ہیں تو خیال آیا ہے
کہ ہمیں قید بھلی تھی تو سزا کیسی تھی
غلام مرتضی راہی
اب مرے گرد ٹھہرتی نہیں دیوار کوئی
بندشیں ہار گئیں بے سر و سامانی سے
غلام مرتضی راہی
اے مرے پایاب دریا تجھ کو لے کر کیا کروں
ناخدا پتوار کشتی بادباں رکھتے ہوئے
غلام مرتضی راہی
اپنی قسمت کا بلندی پہ ستارہ دیکھوں
ظلمت شب میں یہی ایک نظارہ دیکھوں
غلام مرتضی راہی

