EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

تیرے رخساروں سے دنیا روشن تھی
کیسے ہو گئی ظلمت طاری حیرت ہے

غلام محمد وامق




آتا تھا جس کو دیکھ کے تصویر کا خیال
اب تو وہ کیل بھی مری دیوار میں نہیں

غلام مرتضی راہی




اب اور دیر نہ کر حشر برپا کرنے میں
مری نظر ترے دیدار کو ترستی ہے

غلام مرتضی راہی




اب جو آزاد ہوئے ہیں تو خیال آیا ہے
کہ ہمیں قید بھلی تھی تو سزا کیسی تھی

غلام مرتضی راہی




اب مرے گرد ٹھہرتی نہیں دیوار کوئی
بندشیں ہار گئیں بے سر و سامانی سے

غلام مرتضی راہی




اے مرے پایاب دریا تجھ کو لے کر کیا کروں
ناخدا پتوار کشتی بادباں رکھتے ہوئے

غلام مرتضی راہی




اپنی قسمت کا بلندی پہ ستارہ دیکھوں
ظلمت شب میں یہی ایک نظارہ دیکھوں

غلام مرتضی راہی