EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

امید کی سوکھتی شاخوں سے سارے پتے جھڑ جائیں گے
اس خوف سے اپنی تصویریں ہم سال بہ سال بناتے ہیں

غلام محمد قاصر




وفا کے شہر میں اب لوگ جھوٹ بولتے ہیں
تو آ رہا ہے مگر سچ کو مانتا ہے تو آ

غلام محمد قاصر




وہ لوگ مطمئن ہیں کہ پتھر ہیں ان کے پاس
ہم خوش کہ ہم نے آئینہ خانے بنائے ہیں

غلام محمد قاصر




یاد اشکوں میں بہا دی ہم نے
آ کہ ہر بات بھلا دی ہم نے

غلام محمد قاصر




یہ بھی اک رنگ ہے شاید مری محرومی کا
کوئی ہنس دے تو محبت کا گماں ہوتا ہے

غلام محمد قاصر




زمانوں کو اڑانیں برق کو رفتار دیتا تھا
مگر مجھ سے کہا ٹھہرے ہوئے شام و سحر لے جا

غلام محمد قاصر




پیدل ہمیں جو دیکھ کے کتراتے تھے کبھی
اب لفٹ مانگتے ہیں وہی کار دیکھ کر

غلام محمد وامق