امید کی سوکھتی شاخوں سے سارے پتے جھڑ جائیں گے
اس خوف سے اپنی تصویریں ہم سال بہ سال بناتے ہیں
غلام محمد قاصر
وفا کے شہر میں اب لوگ جھوٹ بولتے ہیں
تو آ رہا ہے مگر سچ کو مانتا ہے تو آ
غلام محمد قاصر
وہ لوگ مطمئن ہیں کہ پتھر ہیں ان کے پاس
ہم خوش کہ ہم نے آئینہ خانے بنائے ہیں
غلام محمد قاصر
یاد اشکوں میں بہا دی ہم نے
آ کہ ہر بات بھلا دی ہم نے
غلام محمد قاصر
یہ بھی اک رنگ ہے شاید مری محرومی کا
کوئی ہنس دے تو محبت کا گماں ہوتا ہے
غلام محمد قاصر
زمانوں کو اڑانیں برق کو رفتار دیتا تھا
مگر مجھ سے کہا ٹھہرے ہوئے شام و سحر لے جا
غلام محمد قاصر
پیدل ہمیں جو دیکھ کے کتراتے تھے کبھی
اب لفٹ مانگتے ہیں وہی کار دیکھ کر
غلام محمد وامق

