EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

پہلے اک شخص میری ذات بنا
اور پھر پوری کائنات بنا

غلام محمد قاصر




پیار گیا تو کیسے ملتے رنگ سے رنگ اور خواب سے خواب
ایک مکمل گھر کے اندر ہر تصویر ادھوری تھی

غلام محمد قاصر




سایوں کی زد میں آ گئیں ساری غلام گردشیں
اب تو کنیز کے لیے راہ فرار بھی نہیں

غلام محمد قاصر




سب سے اچھا کہہ کے اس نے مجھ کو رخصت کر دیا
جب یہاں آیا تو پھر سب سے برا بھی میں ہی تھا

غلام محمد قاصر




سوچا ہے تمہاری آنکھوں سے اب میں ان کو ملوا ہی دوں
کچھ خواب جو ڈھونڈتے پھرتے ہیں جینے کا سہارا آنکھوں میں

غلام محمد قاصر




تری آواز کو اس شہر کی لہریں ترستی ہیں
غلط نمبر ملاتا ہوں تو پہروں بات ہوتی ہے

غلام محمد قاصر




تم یوں ہی ناراض ہوئے ہو ورنہ مے خانے کا پتا
ہم نے ہر اس شخص سے پوچھا جس کے نین نشیلے تھے

غلام محمد قاصر