EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

ہو محبت کی خبر کچھ تو خبر پھر کیوں ہو
یہ بھی اک بے خبری ہے کہ خبر رکھتے ہیں

غلام مولیٰ قلق




جبین پارسا کو دیکھ کر ایماں لرزتا ہے
معاذ اللہ کہ کیا انجام ہے اس پارسائی کا

غلام مولیٰ قلق




جھگڑا تھا جو دل پہ اس کو چھوڑا
کچھ سوچ کے صلح کر گئے ہم

غلام مولیٰ قلق




جی ہے یہ بن لگے نہیں رہتا
کچھ تو ہو شغل عاشقی ہی سہی

غلام مولیٰ قلق




جو کہتا ہے وہ کرتا ہے برعکس اس کے کام
ہم کو یقیں ہے وعدۂ نا استوار کا

غلام مولیٰ قلق




کون جانے تھا اس کا نام و نمود
میری بربادی سے بنا ہے عشق

غلام مولیٰ قلق




خود کو کبھی نہ دیکھا آئینے ہی کو دیکھا
ہم سے تو کیا کہ خود سے نا آشنا رہا ہے

غلام مولیٰ قلق