ہو محبت کی خبر کچھ تو خبر پھر کیوں ہو
یہ بھی اک بے خبری ہے کہ خبر رکھتے ہیں
غلام مولیٰ قلق
جبین پارسا کو دیکھ کر ایماں لرزتا ہے
معاذ اللہ کہ کیا انجام ہے اس پارسائی کا
غلام مولیٰ قلق
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |
جھگڑا تھا جو دل پہ اس کو چھوڑا
کچھ سوچ کے صلح کر گئے ہم
غلام مولیٰ قلق
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |
جی ہے یہ بن لگے نہیں رہتا
کچھ تو ہو شغل عاشقی ہی سہی
غلام مولیٰ قلق
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |
جو کہتا ہے وہ کرتا ہے برعکس اس کے کام
ہم کو یقیں ہے وعدۂ نا استوار کا
غلام مولیٰ قلق
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |
کون جانے تھا اس کا نام و نمود
میری بربادی سے بنا ہے عشق
غلام مولیٰ قلق
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |
خود کو کبھی نہ دیکھا آئینے ہی کو دیکھا
ہم سے تو کیا کہ خود سے نا آشنا رہا ہے
غلام مولیٰ قلق
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |

