EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

دیار یار کا شاید سراغ لگ جاتا
جدا جو جادۂ مقصود سے سفر ہوتا

غلام مولیٰ قلق




دل کے ہر جزو میں جدائی ہے
درد اٹھے آبلہ اگر بیٹھے

غلام مولیٰ قلق




فکر ستم میں آپ بھی پابند ہو گئے
تم مجھ کو چھوڑ دو تو میں تم کو رہا کروں

غلام مولیٰ قلق




گلی سے اپنی ارادہ نہ کر اٹھانے کا
ترا قدم ہوں نہ فتنہ ہوں میں زمانے کا

غلام مولیٰ قلق




ہے اگر کچھ وفا تو کیا کہنے
کچھ نہیں ہے تو دل لگی ہی سہی

غلام مولیٰ قلق




ہم اس کوچے میں اٹھنے کے لیے بیٹھے ہیں مدت سے
مگر کچھ کچھ سہارا ہے ابھی بے دست و پائی کا

غلام مولیٰ قلق




ہر سنگ میں کعبہ کے نہاں عشوۂ بت ہے
کیا بانیٔ اسلام بھی غارت گر دیں تھا

غلام مولیٰ قلق