دیار یار کا شاید سراغ لگ جاتا
جدا جو جادۂ مقصود سے سفر ہوتا
غلام مولیٰ قلق
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |
دل کے ہر جزو میں جدائی ہے
درد اٹھے آبلہ اگر بیٹھے
غلام مولیٰ قلق
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |
فکر ستم میں آپ بھی پابند ہو گئے
تم مجھ کو چھوڑ دو تو میں تم کو رہا کروں
غلام مولیٰ قلق
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |
گلی سے اپنی ارادہ نہ کر اٹھانے کا
ترا قدم ہوں نہ فتنہ ہوں میں زمانے کا
غلام مولیٰ قلق
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |
ہے اگر کچھ وفا تو کیا کہنے
کچھ نہیں ہے تو دل لگی ہی سہی
غلام مولیٰ قلق
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |
ہم اس کوچے میں اٹھنے کے لیے بیٹھے ہیں مدت سے
مگر کچھ کچھ سہارا ہے ابھی بے دست و پائی کا
غلام مولیٰ قلق
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |
ہر سنگ میں کعبہ کے نہاں عشوۂ بت ہے
کیا بانیٔ اسلام بھی غارت گر دیں تھا
غلام مولیٰ قلق
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |

