EN हिंदी
سر صحرائے دنیا پھول یوں ہی تو نہیں کھلتے | شیح شیری
sar-e-sahra-e-duniya phul yun hi to nahin khilte

غزل

سر صحرائے دنیا پھول یوں ہی تو نہیں کھلتے

فضیل جعفری

;

سر صحرائے دنیا پھول یوں ہی تو نہیں کھلتے
دلوں کو جیتنا پڑتا ہے تحفے میں نہیں ملتے

یہ کیا منظر ہے جیسے سو گئی ہوں سوچ کی لہریں
یہ کیسی شام تنہائی ہے پتے تک نہیں ہلتے

مزا جب تھا کہ بوتل سے ابلتی پھیلتی رت میں
دھواں سانسوں سے اٹھتا گرم بوسوں سے بدن چھلتے

جو بھر بھی جائیں دل کے زخم دل ویسا نہیں رہتا
کچھ ایسے چاک ہوتے ہیں جو جڑ کر بھی نہیں سلتے