سر صحرائے دنیا پھول یوں ہی تو نہیں کھلتے
دلوں کو جیتنا پڑتا ہے تحفے میں نہیں ملتے
یہ کیا منظر ہے جیسے سو گئی ہوں سوچ کی لہریں
یہ کیسی شام تنہائی ہے پتے تک نہیں ہلتے
مزا جب تھا کہ بوتل سے ابلتی پھیلتی رت میں
دھواں سانسوں سے اٹھتا گرم بوسوں سے بدن چھلتے
جو بھر بھی جائیں دل کے زخم دل ویسا نہیں رہتا
کچھ ایسے چاک ہوتے ہیں جو جڑ کر بھی نہیں سلتے
غزل
سر صحرائے دنیا پھول یوں ہی تو نہیں کھلتے
فضیل جعفری

