مرا گھر تیری منزل گاہ ہو ایسے کہاں طالع
خدا جانے کدھر کا چاند آج اے ماہ رو نکلا
شیخ ابراہیم ذوقؔ
موذن مرحبا بر وقت بولا
تری آواز مکے اور مدینے
شیخ ابراہیم ذوقؔ
نہ ہوا پر نہ ہوا میرؔ کا انداز نصیب
ذوقؔ یاروں نے بہت زور غزل میں مارا
شیخ ابراہیم ذوقؔ
ناز ہے گل کو نزاکت پہ چمن میں اے ذوقؔ
اس نے دیکھے ہی نہیں ناز و نزاکت والے
شیخ ابراہیم ذوقؔ
نازک کلامیاں مری توڑیں عدو کا دل
میں وہ بلا ہوں شیشے سے پتھر کو توڑ دوں
شیخ ابراہیم ذوقؔ
نکالوں کس طرح سینے سے اپنے تیر جاناں کو
نہ پیکاں دل کو چھوڑے ہے نہ دل چھوڑے ہے پیکاں کو
how do I from my breast dislodge my love's arrow
this barb doesn’t leave my heart nor does my heart let go
شیخ ابراہیم ذوقؔ
پھر مجھے لے چلا ادھر دیکھو
دل خانہ خراب کی باتیں
شیخ ابراہیم ذوقؔ
پھول تو دو دن بہار جاں فزا دکھلا گئے
حسرت ان غنچوں پہ ہے جو بن کھلے مرجھا گئے
شیخ ابراہیم ذوقؔ
پیر مغاں کے پاس وہ دارو ہے جس سے ذوقؔ
نامرد مرد مرد جواں مرد ہو گیا
شیخ ابراہیم ذوقؔ

