پاس اخلاص سخت ہے تکلیف
تاکجا خاطر وضیع و شریف
قائم چاندپوری
پروانے کی شب کی شام ہوں میں
یا روز کی شمع کی سحر ہوں
قائم چاندپوری
پوچھو ہو مجھ سے تم کہ پیے گا بھی تو شراب
ایسا کہاں کا شیخ ہوں یا پارسا ہوں میں
قائم چاندپوری
قائمؔ حیات و مرگ بز و گاؤ میں ہیں نفع
اس مردمی کے شور پہ کس کام کا ہوں میں
قائم چاندپوری
قائمؔ جو کہیں ہیں فارسی یار
اس سے تو یہ ریختہ ہے بہتر
قائم چاندپوری
قائم میں غزل طور کیا ریختہ ورنہ
اک بات لچر سی بزبان دکنی تھی
قائم چاندپوری
قائمؔ میں اختیار کیا شاعری کا عیب
پہنچا نہ کوئی شخص جب اپنے ہنر تلک
قائم چاندپوری
قائمؔ میں ریختہ کو دیا خلعت قبول
ورنہ یہ پیش اہل ہنر کیا کمال تھا
قائم چاندپوری
قاضی خبر لے مے کو بھی لکھا ہے واں مباح
رشوت کا ہے جواز تری جس کتاب میں
قائم چاندپوری

