مری اس چشم تر سے ابر باراں کو ہے کیا نسبت
کہ وہ دریا کا پانی اور یہ خون دل ہے برساتی
نظیر اکبرآبادی
مضمون سرد مہریٔ جاناں رقم کروں
گر ہاتھ آئے کاغذ کشمیر کا ورق
نظیر اکبرآبادی
مرتا ہے جو محبوب کی ٹھوکر پہ نظیرؔ آہ
پھر اس کو کبھی اور کوئی لت نہیں لگتی
نظیر اکبرآبادی
میں ہوں پتنگ کاغذی ڈور ہے اس کے ہاتھ میں
چاہا ادھر گھٹا دیا چاہا ادھر بڑھا دیا
نظیر اکبرآبادی
کس کو کہئے نیک اور ٹھہرائیے کس کو برا
غور سے دیکھا تو سب اپنے ہی بھائی بند ہیں
نظیر اکبرآبادی
کچھ ہم کو امتیاز نہیں صاف و درد کا
اے ساقیان بزم بیارید ہرچہ ہست
نظیر اکبرآبادی
کوئی تو پگڑی بدلتا ہے اوروں سے لیکن
میاں نظیرؔ ہم اب تم سے تن بدلتے ہیں
نظیر اکبرآبادی
کتنا تنک صفا ہے کہ پائے نگاہ کا
ہلکا سا اک غبار ہے چہرے کے رنگ پر
نظیر اکبرآبادی
کوچے میں اس کے بیٹھنا حسن کو اس کے دیکھنا
ہم تو اسی کو سمجھے ہیں باغ بھی اور بہار بھی
نظیر اکبرآبادی

