نہ گل اپنا نہ خار اپنا نہ ظالم باغباں اپنا
بنایا آہ کس گلشن میں ہم نے آشیاں اپنا
نظیر اکبرآبادی
نہ اتنا ظلم کر اے چاندنی بہر خدا چھپ جا
تجھے دیکھے سے یاد آتا ہے مجھ کو ماہتاب اپنا
نظیر اکبرآبادی
نظیرؔ اب اس ندامت سے کہوں کیا
فآہا ثم آہا ثم آہا
نظیر اکبرآبادی
نظیرؔ تیری اشارتوں سے یہ باتیں غیروں کی سن رہا ہے
وگرنہ کس میں تھی تاب و طاقت جو اس سے آ کر کلام کرتا
نظیر اکبرآبادی
پکارا قاصد اشک آج فوج غم کے ہاتھوں سے
ہوا تاراج پہلے شہر جاں دل کا نگر پیچھے
نظیر اکبرآبادی
قسمت میں گر ہماری یہ مے ہے تو ساقیا
بے اختیار آپ سے شیشہ کرے گا جست
نظیر اکبرآبادی
رنج دل یوں گیا رخ اس کا دیکھ
جیسے اٹھ جائے آئینے سے زنگ
نظیر اکبرآبادی
سب کتابوں کے کھل گئے معنی
جب سے دیکھی نظیرؔ دل کی کتاب
نظیر اکبرآبادی
سرچشمۂ بقا سے ہرگز نہ آب لاؤ
حضرت خضر کہیں سے جا کر شراب لاؤ
نظیر اکبرآبادی