جو گزرتے ہیں داغؔ پر صدمے
آپ بندہ نواز کیا جانیں
داغؔ دہلوی
جو تمہاری طرح تم سے کوئی جھوٹے وعدے کرتا
تمہیں منصفی سے کہہ دو تمہیں اعتبار ہوتا
داغؔ دہلوی
جوش رحمت کے واسطے زاہد
ہے ذرا سی گناہ گاری شرط
داغؔ دہلوی
کہیں ہے عید کی شادی کہیں ماتم ہے مقتل میں
کوئی قاتل سے ملتا ہے کوئی بسمل سے ملتا ہے
festive joy in places, elsewhere gloom of genocide
some like the murderer rejoice, some victim-like abide
داغؔ دہلوی
کہنے دیتی نہیں کچھ منہ سے محبت میری
لب پہ رہ جاتی ہے آ آ کے شکایت میری
from voicing my emotions, love makes me refrain
grievances come to my lips but silent there remain
داغؔ دہلوی
کل تک تو آشنا تھے مگر آج غیر ہو
دو دن میں یہ مزاج ہے آگے کی خیر ہو
داغؔ دہلوی
خار حسرت بیان سے نکلا
دل کا کانٹا زبان سے نکلا
داغؔ دہلوی
خاطر سے یا لحاظ سے میں مان تو گیا
جھوٹی قسم سے آپ کا ایمان تو گیا
for reasons of formality, I've chosen to believe
you have surely lost your faith when you so deceive
داغؔ دہلوی
خبر سن کر مرے مرنے کی وہ بولے رقیبوں سے
خدا بخشے بہت سی خوبیاں تھیں مرنے والے میں
upon my death she stated to my rivals, if you please
may God spare the parted soul had many qualities
داغؔ دہلوی

