EN हिंदी
انور سدید شیاری | شیح شیری

انور سدید شیر

20 شیر

کھلی زبان تو ظرف ان کا ہو گیا ظاہر
ہزار بھید چھپا رکھے تھے خموشی میں

انور سدید




آشیانوں میں نہ جب لوٹے پرندے تو سدیدؔ
دور تک تکتی رہیں شاخوں میں آنکھیں صبح تک

انور سدید




کل شام پرندوں کو اڑتے ہوئے یوں دیکھا
بے آب سمندر میں جیسے ہو رواں پانی

انور سدید




جو پھول جھڑ گئے تھے جو آنسو بکھر گئے
خاک چمن سے ان کا پتا پوچھتا رہا

انور سدید




جاگتی آنکھ سے جو خواب تھا دیکھا انورؔ
اس کی تعبیر مجھے دل کے جلانے سے ملی

انور سدید




ہم نے ہر سمت بچھا رکھی ہیں آنکھیں اپنی
جانے کس سمت سے آ جائے سواری تیری

انور سدید




گھپ اندھیرے میں بھی اس کا جسم تھا چاندی کا شہر
چاند جب نکلا تو وہ سونا نظر آیا مجھے

انور سدید




دکھ کے طاق پہ شام ڈھلے
کس نے دیا جلایا تھا

انور سدید




دم وصال تری آنچ اس طرح آئی
کہ جیسے آگ سلگنے لگے گلابوں میں

انور سدید