کچھ رستے مشکل ہی اچھے لگتے ہیں
کچھ رستوں کو ہم آسان نہیں کرتے
عالم خورشید
کوئی صورت بھی نہیں ملتی کسی صورت میں
کوزہ گر کیسا کرشمہ ترے اس چاک میں ہے
عالم خورشید
کسی کو ڈھونڈتے ہیں ہم کسی کے پیکر میں
کسی کا چہرہ کسی سے ملاتے رہتے ہیں
عالم خورشید
آئے ہو نمائش میں ذرا دھیان بھی رکھنا
ہر شے جو چمکتی ہے چمک دار نہیں ہے
عالم خورشید
کبھی کبھی کتنا نقصان اٹھانا پڑتا ہے
ایروں غیروں کا احسان اٹھانا پڑتا ہے
عالم خورشید
عشق میں تہذیب کے ہیں اور ہی کچھ فلسفے
تجھ سے ہو کر ہم خفا خود سے خفا رہنے لگے
عالم خورشید
اس فیصلے سے خوش ہیں افراد گھر کے سارے
اپنی خوشی سے کب میں گھر سے نکل رہا ہوں
عالم خورشید
ہاتھ پکڑ لے اب بھی تیرا ہو سکتا ہوں میں
بھیڑ بہت ہے اس میلے میں کھو سکتا ہوں میں
عالم خورشید
گزشتہ رت کا امیں ہوں نئے مکان میں بھی
پرانی اینٹ سے تعمیر کرتا رہتا ہوں
عالم خورشید

