EN हिंदी
وسعت شیاری | شیح شیری

وسعت

24 شیر

وہ جو اک شرط تھی وحشت کی اٹھا دی گئی کیا
میری بستی کسی صحرا میں بسا دی گئی کیا

عرفانؔ صدیقی




وحشت کا یہ عالم کہ پس چاک گریباں
رنجش ہے بہاروں سے الجھتے ہیں خزاں سے

جاوید صبا




اک دن دکھ کی شدت کم پڑ جاتی ہے
کیسی بھی ہو وحشت کم پڑ جاتی ہے

کاشف حسین غائر




نہ ہم وحشت میں اپنے گھر سے نکلے
نہ صحرا اپنی ویرانی سے نکلا

کاشف حسین غائر




وحشتیں کچھ اس طرح اپنا مقدر بن گئیں
ہم جہاں پہنچے ہمارے ساتھ ویرانے گئے

خاطر غزنوی




وحشتیں عشق اور مجبوری
کیا کسی خاص امتحان میں ہوں

خورشید ربانی




شادؔ اتنی بڑھ گئی ہیں میرے دل کی وحشتیں
اب جنوں میں دشت اور گھر ایک جیسے ہو گئے

خوشبیر سنگھ شادؔ