EN हिंदी
خدا شیاری | شیح شیری

خدا

73 شیر

تو میرے سجدوں کی لاج رکھ لے شعور سجدہ نہیں ہے مجھ کو
یہ سر ترے آستاں سے پہلے کسی کے آگے جھکا نہیں ہے

رفیق راز




مے خانے میں کیوں یاد خدا ہوتی ہے اکثر
مسجد میں تو ذکر مے و مینا نہیں ہوتا

ریاضؔ خیرآبادی




مرا اکیلا خدا یاد آ رہا ہے مجھے
یہ سوچتا ہوا گرجا بلا رہا ہے مجھے

ساقی فاروقی




وہ خدا ہے تو مری روح میں اقرار کرے
کیوں پریشان کرے دور کا بسنے والا

ساقی فاروقی




جواز کوئی اگر میری بندگی کا نہیں
میں پوچھتا ہوں تجھے کیا ملا خدا ہو کر

شہزاد احمد




اہل معنی جز نہ بوجھے گا کوئی اس رمز کو
ہم نے پایا ہے خدا کو صورت انساں کے بیچ

شیخ ظہور الدین حاتم




گلشن دہر میں سو رنگ ہیں حاتمؔ اس کے
وہ کہیں گل ہے کہیں بو ہے کہیں بوٹا ہے

شیخ ظہور الدین حاتم