EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

جانتا ہے کہ وہ نہ آئیں گے
پھر بھی مصروف انتظار ہے دل

فیض احمد فیض




جل اٹھے بزم غیر کے در و بام
جب بھی ہم خانماں خراب آئے

فیض احمد فیض




جواں مردی اسی رفعت پہ پہنچی
جہاں سے بزدلی نے جست کی تھی

فیض احمد فیض




جو نفس تھا خار گلو بنا جو اٹھے تھے ہاتھ لہو ہوئے
وہ نشاط آہ سحر گئی وہ وقار دست دعا گیا

فیض احمد فیض




جو طلب پہ عہد وفا کیا تو وہ آبروئے وفا گئی
سر عام جب ہوئے مدعی تو ثواب صدق و وفا گیا

فیض احمد فیض




جدا تھے ہم تو میسر تھیں قربتیں کتنی
بہم ہوئے تو پڑی ہیں جدائیاں کیا کیا

فیض احمد فیض




کب ٹھہرے گا درد اے دل کب رات بسر ہوگی
سنتے تھے وہ آئیں گے سنتے تھے سحر ہوگی

فیض احمد فیض