جانتا ہے کہ وہ نہ آئیں گے
پھر بھی مصروف انتظار ہے دل
فیض احمد فیض
جل اٹھے بزم غیر کے در و بام
جب بھی ہم خانماں خراب آئے
فیض احمد فیض
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |
جواں مردی اسی رفعت پہ پہنچی
جہاں سے بزدلی نے جست کی تھی
فیض احمد فیض
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |
جو نفس تھا خار گلو بنا جو اٹھے تھے ہاتھ لہو ہوئے
وہ نشاط آہ سحر گئی وہ وقار دست دعا گیا
فیض احمد فیض
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |
جو طلب پہ عہد وفا کیا تو وہ آبروئے وفا گئی
سر عام جب ہوئے مدعی تو ثواب صدق و وفا گیا
فیض احمد فیض
ٹیگز:
| وفا |
| 2 لائنیں شیری |
جدا تھے ہم تو میسر تھیں قربتیں کتنی
بہم ہوئے تو پڑی ہیں جدائیاں کیا کیا
فیض احمد فیض
ٹیگز:
| یہوداہ |
| 2 لائنیں شیری |
کب ٹھہرے گا درد اے دل کب رات بسر ہوگی
سنتے تھے وہ آئیں گے سنتے تھے سحر ہوگی
فیض احمد فیض

