EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

چاک ہو پردۂ وحشت مجھے منظور نہیں
ورنہ یہ ہاتھ گریبان سے کچھ دور نہیں

داغؔ دہلوی




چھیڑ معشوق سے کیجے تو ذرا تھم تھم کر
روز کے نامہ و پیغام برے ہوتے ہیں

داغؔ دہلوی




چپ چاپ سنتی رہتی ہے پہروں شب فراق
تصویر یار کو ہے مری گفتگو پسند

داغؔ دہلوی




داغؔ کو کون دینے والا تھا
جو دیا اے خدا دیا تو نے

داغؔ دہلوی




دفعتاً ترک تعلق میں بھی رسوائی ہے
الجھے دامن کو چھڑاتے نہیں جھٹکا دے کر

داغؔ دہلوی




دیکھنا اچھا نہیں زانو پہ رکھ کر آئنہ
دونوں نازک ہیں نہ رکھیو آئنے پر آئنہ

داغؔ دہلوی




دیکھنا حشر میں جب تم پہ مچل جاؤں گا
میں بھی کیا وعدہ تمہارا ہوں کہ ٹل جاؤں گا

داغؔ دہلوی