EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

تجھ کو دیکھا ترے وعدے دیکھے
اونچی دیوار کے لمبے سائے

باقی صدیقی




تم بھی الٹی الٹی باتیں پوچھتے ہو
ہم بھی کیسی کیسی قسمیں کھاتے ہیں

باقی صدیقی




تم زمانے کی راہ سے آئے
ورنہ سیدھا تھا راستہ دل کا

باقی صدیقی




ان کا یا اپنا تماشا دیکھو
جو دکھاتا ہے زمانہ دیکھو

باقی صدیقی




وقت کا پتھر بھاری ہوتا جاتا ہے
ہم مٹی کی صورت دیتے جاتے ہیں

باقی صدیقی




وقت کے پاس ہیں کچھ تصویریں
کوئی ڈوبا ہے کہ ابھرا دیکھو

باقی صدیقی




یہی رستہ ہے اب یہی منزل
اب یہیں دل کسی بہانے لگے

باقی صدیقی