EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

یوں بھی ہونے کا پتا دیتے ہیں
اپنی زنجیر ہلا دیتے ہیں

باقی صدیقی




زندگی کی بساط پر باقیؔ
موت کی ایک چال ہیں ہم لوگ

باقی صدیقی




دن رات پڑا رہتا ہوں دروازے پہ اپنے
اس غم میں کہ کوئی کبھی آتا تھا ادھر سے

برق دہلوی




رہے گا کس کا حصہ بیشتر میرے مٹانے میں
یہ باہم فیصلہ پہلے زمین و آسماں کر لیں

برق دہلوی




شب فرقت نظر آتے نہیں آثار سحر
اتنی ظلمت ہے رخ شمع پہ بھی نور نہیں

برق دہلوی




بہت تھا خوف جس کا پھر وہی قصا نکل آیا
مرے دکھ سے کسی آواز کا رشتا نکل آیا

بشر نواز




گھٹتی بڑھتی روشنیوں نے مجھے سمجھا نہیں
میں کسی پتھر کسی دیوار کا سایا نہیں

بشر نواز