یوں بھی ہونے کا پتا دیتے ہیں
اپنی زنجیر ہلا دیتے ہیں
باقی صدیقی
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |
زندگی کی بساط پر باقیؔ
موت کی ایک چال ہیں ہم لوگ
باقی صدیقی
دن رات پڑا رہتا ہوں دروازے پہ اپنے
اس غم میں کہ کوئی کبھی آتا تھا ادھر سے
برق دہلوی
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |
رہے گا کس کا حصہ بیشتر میرے مٹانے میں
یہ باہم فیصلہ پہلے زمین و آسماں کر لیں
برق دہلوی
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |
شب فرقت نظر آتے نہیں آثار سحر
اتنی ظلمت ہے رخ شمع پہ بھی نور نہیں
برق دہلوی
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |
بہت تھا خوف جس کا پھر وہی قصا نکل آیا
مرے دکھ سے کسی آواز کا رشتا نکل آیا
بشر نواز
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |
گھٹتی بڑھتی روشنیوں نے مجھے سمجھا نہیں
میں کسی پتھر کسی دیوار کا سایا نہیں
بشر نواز
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |

