جھوٹے وعدوں پر تھی اپنی زندگی
اب تو وہ بھی آسرا جاتا رہا
عزیز لکھنوی
کبھی جنت کبھی دوزخ کبھی کعبہ کبھی دیر
عجب انداز سے تعمیر ہوا خانۂ دل
عزیز لکھنوی
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |
خود چلے آؤ یا بلا بھیجو
رات اکیلے بسر نہیں ہوتی
عزیز لکھنوی
لطف بہار کچھ نہیں گو ہے وہی بہار
دل ہی اجڑ گیا کہ زمانہ اجڑ گیا
عزیز لکھنوی
مانا کہ بزم حسن کے آداب ہیں بہت
جب دل پہ اختیار نہ ہو کیا کرے کوئی
عزیز لکھنوی
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |
میں تو ہستی کو سمجھتا ہوں سراسر اک گناہ
پاک دامانی کا دعویٰ ہو تو کس بنیاد پر
عزیز لکھنوی
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |
منزل ہستی میں اک یوسف کی تھی مجھ کو تلاش
اب جو دیکھا کارواں کا کارواں ملتا نہیں
عزیز لکھنوی
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |

