EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

جھوٹے وعدوں پر تھی اپنی زندگی
اب تو وہ بھی آسرا جاتا رہا

عزیز لکھنوی




کبھی جنت کبھی دوزخ کبھی کعبہ کبھی دیر
عجب انداز سے تعمیر ہوا خانۂ دل

عزیز لکھنوی




خود چلے آؤ یا بلا بھیجو
رات اکیلے بسر نہیں ہوتی

عزیز لکھنوی




لطف بہار کچھ نہیں گو ہے وہی بہار
دل ہی اجڑ گیا کہ زمانہ اجڑ گیا

عزیز لکھنوی




مانا کہ بزم حسن کے آداب ہیں بہت
جب دل پہ اختیار نہ ہو کیا کرے کوئی

عزیز لکھنوی




میں تو ہستی کو سمجھتا ہوں سراسر اک گناہ
پاک دامانی کا دعویٰ ہو تو کس بنیاد پر

عزیز لکھنوی




منزل ہستی میں اک یوسف کی تھی مجھ کو تلاش
اب جو دیکھا کارواں کا کارواں ملتا نہیں

عزیز لکھنوی