EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

ہمیشہ سے مزاج حسن میں دقت پسندی ہے
مری دشواریاں آسان ہونا سخت مشکل ہے

عزیز لکھنوی




ہمیشہ تنکے ہی چنتے گزر گئی اپنی
مگر چمن میں کہیں آشیاں بنا نہ سکے

عزیز لکھنوی




حقارت سے نہ دیکھو ساکنان خاک کی بستی
کہ اک دنیا ہے ہر ذرہ ان اجزائے پریشاں کا

عزیز لکھنوی




ہجر کی رات کاٹنے والے
کیا کرے گا اگر سحر نہ ہوئی

عزیز لکھنوی




حسن آراستہ قدرت کا عطیہ ہے مگر
کیا مرا عشق جگر سوز خدا داد نہیں

عزیز لکھنوی




اتنا بھی بار خاطر گلشن نہ ہو کوئی
ٹوٹی وہ شاخ جس پہ مرا آشیانہ تھا

عزیز لکھنوی




جب سے زلفوں کا پڑا ہے اس میں عکس
دل مرا ٹوٹا ہوا آئینہ ہے

عزیز لکھنوی