EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

بتا رہا ہے جھٹکنا تری کلائی کا
ذرا بھی رنج نہیں ہے تجھے جدائی کا

اظہر فراغ




بھنور سے یہ جو مجھے بادبان کھینچتا ہے
ضرور کوئی ہواؤں کے کان کھینچتا ہے

اظہر فراغ




دلیل اس کے دریچے کی پیش کی میں نے
کسی کو پتلی گلی سے نہیں نکلنے دیا

اظہر فراغ




ایک ہی وقت میں پیاسے بھی ہیں سیراب بھی ہیں
ہم جو صحراؤں کی مٹی کے گھڑے ہوتے ہیں

اظہر فراغ




ایک ہونے کی قسمیں کھائی جائیں
اور آخر میں کچھ دیا لیا جائے

اظہر فراغ




گیلے بالوں کو سنبھال اور نکل جنگل سے
اس سے پہلے کہ ترے پاؤں یہ جھرنا پڑ جائے

اظہر فراغ




گرتے پیڑوں کی زد میں ہیں ہم لوگ
کیا خبر راستہ کھلے کب تک

اظہر فراغ