بتا رہا ہے جھٹکنا تری کلائی کا
ذرا بھی رنج نہیں ہے تجھے جدائی کا
اظہر فراغ
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |
بھنور سے یہ جو مجھے بادبان کھینچتا ہے
ضرور کوئی ہواؤں کے کان کھینچتا ہے
اظہر فراغ
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |
دلیل اس کے دریچے کی پیش کی میں نے
کسی کو پتلی گلی سے نہیں نکلنے دیا
اظہر فراغ
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |
ایک ہی وقت میں پیاسے بھی ہیں سیراب بھی ہیں
ہم جو صحراؤں کی مٹی کے گھڑے ہوتے ہیں
اظہر فراغ
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |
ایک ہونے کی قسمیں کھائی جائیں
اور آخر میں کچھ دیا لیا جائے
اظہر فراغ
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |
گیلے بالوں کو سنبھال اور نکل جنگل سے
اس سے پہلے کہ ترے پاؤں یہ جھرنا پڑ جائے
اظہر فراغ
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |
گرتے پیڑوں کی زد میں ہیں ہم لوگ
کیا خبر راستہ کھلے کب تک
اظہر فراغ
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |

