EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

شام پرندے لوٹ آئے تو ہم تری کھوج میں چل نکلے
پھر جنگل میں رات ہوئی اور گھر کا رستہ بھول گئے

اظہر علی




آنکھ کھلتے ہی جبیں چومنے آ جاتے ہیں
ہم اگر خواب میں بھی تم سے لڑے ہوتے ہیں

اظہر فراغ




اچھے خاصے لوگوں پر بھی وقت اک ایسا آ جاتا ہے
اور کسی پر ہنستے ہنستے خود پر رونا آ جاتا ہے

اظہر فراغ




ایسی غربت کو خدا غارت کرے
پھول بھجوانے کی گنجائش نہ ہو

اظہر فراغ




بدل کے دیکھ چکی ہے رعایا صاحب تخت
جو سر قلم نہیں کرتا زبان کھینچتا ہے

اظہر فراغ




بہت غنیمت ہیں ہم سے ملنے کبھی کبھی کے یہ آنے والے
وگرنہ اپنا تو شہر بھر میں مکان تالے سے جانا جائے

اظہر فراغ




بہت سے سانپ تھے اس غار کے دہانے پر
دل اس لئے بھی خزانہ شمار ہونے لگا

اظہر فراغ