شام پرندے لوٹ آئے تو ہم تری کھوج میں چل نکلے
پھر جنگل میں رات ہوئی اور گھر کا رستہ بھول گئے
اظہر علی
آنکھ کھلتے ہی جبیں چومنے آ جاتے ہیں
ہم اگر خواب میں بھی تم سے لڑے ہوتے ہیں
اظہر فراغ
اچھے خاصے لوگوں پر بھی وقت اک ایسا آ جاتا ہے
اور کسی پر ہنستے ہنستے خود پر رونا آ جاتا ہے
اظہر فراغ
ایسی غربت کو خدا غارت کرے
پھول بھجوانے کی گنجائش نہ ہو
اظہر فراغ
بدل کے دیکھ چکی ہے رعایا صاحب تخت
جو سر قلم نہیں کرتا زبان کھینچتا ہے
اظہر فراغ
بہت غنیمت ہیں ہم سے ملنے کبھی کبھی کے یہ آنے والے
وگرنہ اپنا تو شہر بھر میں مکان تالے سے جانا جائے
اظہر فراغ
بہت سے سانپ تھے اس غار کے دہانے پر
دل اس لئے بھی خزانہ شمار ہونے لگا
اظہر فراغ

