EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

تم اس کی باتوں میں نہ آنا
یہ دنیا تو تماشا دیکھتی ہے

اظہر ادیب




تو اپنی مرضی کے سبھی کردار آزما لے
مرے بغیر اب تری کہانی نہیں چلے گی

اظہر ادیب




اسے بام پذیرائی پہ کیسے چھوڑ دوں اب
یہی تنہائی تو میرے لیے سیڑھی بنی ہے

اظہر ادیب




اسی نے سب سے پہلے ہار مانی
وہی سب سے دلاور لگ رہا تھا

اظہر ادیب




وہ دریا ہے اسے رستہ بدلنے کی عادت ہے
ذرا سی بات پر سینے کو صحرا کر لیا تو نے

اظہر ادیب




یہ شخص جو تجھے آدھا دکھائی دیتا ہے
اس آدھے شخص کو اپنا بنا کے دیکھ کبھی

اظہر ادیب




ذرا سی دیر تجھے آئنہ دکھایا ہے
ذرا سی بات پر اتنے خفا نہیں ہوتے

اظہر ادیب