میں اس کے بارے میں اتنا زیادہ سوچتا ہوں
کہ ایک روز اسے روبرو تو ہونا ہے
منظور ہاشمی
موم کے پتلے تھے ہم اور گرم ہاتھوں میں رہے
جس نے جو چاہا ہمیں ویسا بنا کر لے گیا
منظور ہاشمی
نہ جانے اس کی کہانی میں کتنے پہلو ہیں
کہ جب سنو تو نیا واقعہ نکلتا ہے
منظور ہاشمی
نئی فضا کے پرندے ہیں کتنے متوالے
کہ بال و پر سے بھی پہلے اڑان مانگتے ہیں
منظور ہاشمی
پانی میں ذرا دیر کو ہلچل تو ہوئی تھی
پھر یوں تھا کہ جیسے کوئی ڈوبا ہی نہیں تھا
منظور ہاشمی
پتا نہیں کہ جدا ہو کے کیسے زندہ ہیں
ہمارا اس کا تعلق تو جسم و جان کا تھا
منظور ہاشمی
قبول کیسے کروں ان کا فیصلہ کہ یہ لوگ
مرے خلاف ہی میرا بیان مانگتے ہیں
منظور ہاشمی

