مرثیہ ہوں میں غلاموں کی خوش الہامی کا
شاہ کے حق میں قصیدہ نہیں ہونے والا
خورشید اکبر
میرے اس کے بیچ کا رشتہ اک مجبور ضرورت ہے
میں سوکھے جذبوں کا ایندھن وہ ماچس کی تیلی سی
خورشید اکبر
مٹھی سے ریت پاؤں سے کانٹا نکل نہ جائے
میں دیکھتا رہوں کہیں دنیا نکل نہ جائے
خورشید اکبر
نہ جانے کتنے بھنور کو رلا کے آئی ہے
یہ میری کشتیٔ جاں خود کو پار کرتی ہوئی
خورشید اکبر
نہ جانے کیا لکھا تھا اس نے دیوار برہنہ پر
سلامت رہ نہ پائی ایک بھی تحریر پانی میں
خورشید اکبر
قرآن کا مفہوم انہیں کون بتائے
آنکھوں سے جو چہروں کی تلاوت نہیں کرتے
خورشید اکبر
روتا ہوں تو سیلاب سے کٹتی ہیں زمینیں
ہنستا ہوں تو ڈھ جاتے ہیں کہسار مری جاں
خورشید اکبر

